TB Ki Alamat, Iqsam, Aur Parhez | Mukamal Ilaj

تپ دق - Gurde phephron hadion aur anton ki tb. TB ki alamat kya hai? Tb ka parhez aur tuberculosis ka ilaj janeay.

TB Ki Alamat, Iqsam, Aur Parhez | Mukamal Ilaj

تپ دق ایک ایسی بیماری ہے جو پھیپھڑوں پر اثرانداز ہوتی ہے اور انہیں نکارہ کر دیتی ہے۔ عام لفظوں میں اسے ٹی بی بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے جراثیم اس قدر خطرناک ہوتے ہیں کہ جسم کے کسی بھی حصے پر حملہ کر سکتے ہیں اور اسے ٹھیک طرح کام کرنے کے قابل نہیں چھوڑتے۔ یہ بیماری ایک جرثومے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جسے ٹوبرکل ہیسلس کہا جاتا ہے۔ اس کے جراثیم اس قدر تیز ہوتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح انسان کے جسم تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اکثر اوقات یہ ہوا میں شامل ہو کر ہمارے گلے اور ناک کے راستے پھیپھڑوں تک پہنچ  ہی جاتے ہیں۔ اگرکوئی شخص اس مرض کا شکار ہو چکا ہے تو وہ آسانی سے دوسروں کو بھی  اس بیماری کی لپیٹ میں لے سکتا ہے خاص طور پر مریض کے کھانسنے، سانس لینے، اور چھینک لینے کے ذریعے دوسروں کو لگ سکتی ہے۔

جب یہ جراثیم انسان کے جسم میں داخل ہوجاتے ہیں تویہ کئ دن تک انسان کی تھوک میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ جراثیم خشکی میں کم جبکہ سردی میں زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ جراثیم تیز دھوپ، اور تازہ ہوا میں فوراً مر جاتے ہیں۔ اگر ٹی ۔ بی کے مریض کو پانی اچھی طرح ابال کر استعمال کروایا جاۓ تو ٹی ۔ بی کے جراثیم کمزور ہونا شروع ہو جائیں گے اور اس طرح مریض اس جراثیم سے پاک پانی استعمال کرسکتا ہے۔ اگر ایک دفع یہ جراثیم آپ کے پھیپھڑوں تک پہنچ جائیں توان سے جان چھوڑانا بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے اور یہ تیزی سے بڑھنے لگتے ہیں۔ جانوروں میں بھی ٹی بی کی ایک قسم پائی جاتی ہے۔ یہ جراثیم جانوروں سے منتقل ہو کر پھر انسانوں تک پہنچ جاتے ہیں جو ہڈیوں اور پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تپ دق کے جراثیم ایک انسان سے دوسرے انسان تک مختلف  ذرائعے سے منتقل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ جو ٹی ۔ بی کے مرض میں مبتلا ہیں انہیں اپنی تھوک زمین پر نہیں پھینکنی  چاہیے کیونکہ یہ جراثیم اس تھوک میں موجود ہوتے ہیں جہاں سے یہ زمین میں جذب ہو کر خشک مٹی میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور پھر جب تیز ہوا چلتی ہے تو یہ ہوا میں شامل ہو کر انسان کے سانس لینے کے راستے پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات گھروں میں بھی جوتوں کے ذریعے یہ جراثیم داخل ہو جاتے ہیں اس طرح یہ گھر کے افراد خاص طور پر کم عمر بچوں پر حملہ کر سکتے ہیں۔ بچے چونکہ ناسمجھ ہوتے ہیں اور بار بار منہ میں ہاتھ ڈالتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ جراثیم بچوں کے پیٹ میں چلے جاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح یہ کھانے پینے کی چیزوں کو ہاتھ لگانے سے با آسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے ہیں۔ تپ دق کا مریض اگر پانی یا دودھ کو ہاتھ لگاتا ہے تو یہ جراثیم اس میں بھی شامل ہو سکتے ہیں، اس لیے ڈاکٹر ٹی بی کے مریض کو علیحدہ برتن استعمال کرنے کی تجویز کرتا ہے۔

خاص طور پر ٹی بی کی مریضہ ماں اگر اپنے بچے کو پیار کرتی ہے، چومتی ہے تو یہ جراثیم بچے میں با آسانی منتقل ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ جراثیم کسی طرح پھیپھڑوں تک پہنچ گۓ ہیں تو ہو سکتا ہے کہ چھینک آنے یا کھانسنے سے یہ جسم سے خارج ہو جائیں۔ اگر یہ جراثیم خون کی نالیوں میں چلے گۓ ہیں تو ممکن ہے کے معدے کا تیزاب اسے ختم کردے۔ اگر یہ جراثیم خون میں شامل ہو جائیں تو جسم میں موجود سفید خلیے اسے ختم کر سکتے ہیں لیکن اگر ان مدافعتی مراحل سے جراثیم بچ جائیں تو پھر یہ جراثیم پھیھڑوں پر ہی حملہ کرتے ہیں۔ ہمارے جسم میں پھیپھڑوں کا اپنا ہی ایک مدافعتی نظام ہوتا ہے، جب ٹی بی کے جراثیم ہمارے پھیپھڑوں میں داخل ہوتے ہیں تو چند خلیے ان کی طرف بڑھ کر ایک دیوار بنا لیتے ہیں۔پھیپھڑوں کی دیواروں کے اندر پاۓ جانے والے مواد مل کر ٹوبرکل بناتے ہیں، اس کے اندر موجود ٹی بی کے جراثیم آپس میں لڑ رہے ہوتے ہیں۔ اس عمل کے دوران پھیپھڑوں کا متاثرہ حصہ خراب ہو جاتا ہے اور ٹی بی کے جراثیم مرجاتے ہیں اور پھر یہ جراثیم نقصان کر کے رک جاتے ہیں جس سے یہ لگتا ہے کہ یہ بیماری رک گئی ہے پر ہمارے جسم میں موجود پھیپھڑوں کے اندر بہت زیادہ اندھیرا، گرمی اور نمی کی وجہ سے یہ جراثیم دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں اور یہ بیماری دوبارہ سے حملہ آور ہو جاتی ہے۔ ٹی بی کا مرض تیزی سے ہمارے خون میں موجود سفید خلیوں کو متاثر کرتا ہے۔

اگر ہمارے جسم کی قوت مدافعت کم ہو تو یہ جراثیم اپنا حملہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

 

ٹی بی کی شناحت

ٹوبرکولین ایک ایسا ٹیسٹ ہے جسے ٹی بی کی شناحت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹوبرکولین کی ایک خاص مقدار کو انجیکشن کے ذریعے جلد میں لگایا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص میں ٹی بی کے جراثیم موجود ہوں تو جس جگہ انجیکشن لگایا جاتا ہے وہ جگہ ایک دو دن تک سوج جاتی ہے، اس جگہ کا رنگ سرخ ہو جاتا ہے۔ ان علامات کی وجہ سے اس ٹیسٹ کو مثبت کہا جاتا ہے ۔ اگر یہ ٹیسٹ مثبت ثابت ہو تو تپ دق کے سپیشیلسٹ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

اس کے علاوہ مرض کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں جیسا کہ خون ٹیسٹ کرنا، ٹی بی کی علامات پر دھیان دینا وغیرہ۔

 

ٹی بی کی علامات

؎

مریض بہت کمزور دکھائی دیتا ہے اور اس کا وزن بھی بہت کم رہ جاتا ہے۔

؎

کوئی کام کیے بغیر مریض جلد ہی تھکن محسوس کرتا ہے۔

؎

کوئی چیز ہضم نہیں ہوتی اور اس شخص کو بھوک بہت کم لگتی ہے۔

؎

مریض کو بار بار کھانسی آتی ہے جس کی وجہ سے اس کے پھیپھڑے مزید متاثرہوتے ہیں۔

؎

مریض کے بار بار کھانسنے سے بلغم کے راستے خون آتا ہے۔ پہلے خون آنے کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن پھر آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

؎

سینے میں بہت زیادہ درد ہونا۔

 

ٹی بی کے مریض کی بہتر دیکھ بھال

مریض کی گھر میں بہتر طریقے سے دیکھ بھال ممکن ہے جس سے مریض بہتر طریقے سے صحت یابی کی طرف واپس آتا ہے اور کچھ ہی روز میں اس کی صحت پہلے کی نسبت بہتر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ مریض کو کھانسی آنا بہت ہی کم ہو جاتی ہے اور اسے بھوک لگنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ادویات کا استعمال بھی جاری رکھنا مریض کو بہتر سے بہتر کر دیتا ہے۔ بعض اوقات مریض اپنی بہتر ہوتی ہوئی حالت کو دیکھ کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گیا ہے اور پھر اپنے علاج پر دھیان نہیں دیتا جس کی وجہ سے جسم میں موجود تپ دق بیماری کے جراثیم پہلے کی نسبت زیادہ طاقت ور بن سکتے ہیں۔ مریض کو چاہیۓ کہ اپنی ادویات بروقت لے اور ناغہ نہ کرے۔ جب تک ڈاکٹر ان ادویات کو لینے سے نہ روکے تب تک ان کا استعمال جاری رکھے۔ مریض کو کھلا، ہوادار کمرہ دینا چاہیۓ تا کہ تازہ ہوا اور روشنی کا کراس ممکن ہو سکے۔

 

مریض کی خوراک کے لحاظ سے چند ضروری ہدایات

مریض کو ایسی غذا دی جاۓ جو اس کی جسمانی ضروریات کو اچھی طرح پورا کر سکے اور اس کو کمزوری نہ ہونے دے جو کہ مندرجہ ذیل بتائی جا رہی ہیں۔

؎

روزانہ کی بنیاد پرمریض کو کم از کم آدھا کلو دودھ پلائیں۔

؎

مریض کو زیادہ سے زیادہ تازہ سبزیاں کھلائیں۔

؎

مریض کی خوراک میں روزانہ ایک عدد انڈا شامل کر دینا بہت مفید ہے۔

؎

مچھلی، بھنا ہوا گوشت کے ساتھ ساتھ نرم غذائیں مثلاً ابلے ہوۓ چاول، دلیہ، اور سبزیوں کا سوپ نہایت فائدہ مند ہے۔

 

تپ دق کے مریض ﮐﯿﻠﮱ احتیاتی تدابیر

مریض کو چاہیۓ کہ اپنی تھوک کو کسی رومال یا ٹشو پیپر کے ذریعے صاف کرے اور پھر بعد میں اسے جلا کرتلف کر دے۔ مر یض اپنے اردگرد افراد سے میل ملاپ بڑھا سکتا ہے لیکن زیادہ طویل ملاقات نہ کرے۔ مریض کے گھر والے افراد کو بھی چاہیۓ کہ اپنا تپ دق بیماری کا ٹیسٹ لازمی کروا لیں تا کہ اگر گھر میں کسی اور فرد کو بھی یہ بیماری ہو تو اس کا بروقت علاج شروع کیا جا سکے۔ علاج کے دوران بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مریض جسمانی طور پر بلکل صحت مند دکھائی دیتا ہے لیکن خطرناک جراثیم ابھی تک اس میں موجود ہوتے ہیں۔ مریض کو چاہیۓ کہ وہ اپنے آپ پر پوری طرح توجہ دے۔ اگر تھوک کے ساتھ خون آۓ، تھکن محسوس ہو یا ادویات سے کوئی فائدہ نہ ملے تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

  

ٹی بی میں مبتلا شخص کو کیا کرنا چاہیۓ؟

؎

مریض کو چاہیۓ کہ وہ اپنی خوراک کا خاص خیال رکھے اور اپنے آرام کو زیادہ اہمیت دے۔

؎

بار بار اپنے ڈاکٹر تبدیل نہ کرے اور ایک اچھے سپیشیلسٹ ڈاکٹر سے رجوع کرے۔

؎

خود کو صحت افزا مقام پر لے جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنے علاج پر پوری طرح دھیان دے۔

؎

تپ دق بیماری کی ادویات چونکہ مقدار میں ذیادہ ہوتی ہیں اور مریض کا دل اکتا جاتا ہے، بعض اوقات دو سال تک بھی ان کا استعمال کروایا جاتا ہے اس لیے مریض کو چاہیۓ کہ وہ حوصلے کے ساتھ ان ادویات کا دورانیہ پورا کرے۔

 

ٹی بی کی اقسام

تپ دق پھیپھڑوں کے علاوہ جسم کے دوسرے حصوں کوبھی متاثر کرتی ہے۔عام طور پر پائی جانے والی ٹی بی کی مختلف اقسام مندرجہ ذیل بیان کی جا رہی ہیں۔

 

.1

جوڑوں اور ہڈیوں کی ٹی بی

ہڈیوں کی ٹی بی انسانوں میں ذیادہ تر جانوروں کے ذریعے پھیلتی ہے۔ عموماً جوانی میں ہی اس بیماری کے لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ٹی بی کے جراثییم ہڈیوں کی اوپر والی سطح پرموجود ہوتے ہیں جہاں سے یہ جوڑوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اکثر اوقات جوڑوں اور ہڈیوں کی تپ دق خون میں شامل ہو جاتی ہے، نتیجتاً مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس لیے اس بیماری کا علاج وقت پر کروانا بہت ضروری ہے۔

نوٹ: ٹی بی کے جراثیم اگر خون میں شامل ہوجائیں تو یہ بیماری پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں جس سے جسم میں ٹوبرکل بن جاتے ہیں جن کی تعداد بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔

علامات

؎

سر میں شدید درد ہوتا ہے، مریض کا حلق بہت جلدی خشک ہونا شروع ہو جاتا ہے اور بہت زیادہ سر درد ہونے کی وجہ سے اس کا سر چکرانے لگتا ہے۔

؎

نبض کی رفتار بہت تیز ہو جاتی ہے۔

؎

شدید بخار کا ہونا۔

؎

جسمانی وزن انتہائی کم رہ جاتا ہے۔

؎

اس بیماری میں مریض کا پیٹ پھولنے لگتا ہے۔

؎

مریض میں خون کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

  

.2

 آنتوں کی ٹی بی

انسانی آنتوں میں ٹی بی کے جراثیم خوراک کی نالیوں یا خون کے راستے پہنچتے ہیں۔ اس بیماری کی ایک وجہ یہ ہے کہ مریض منہ سے نکلنے والی بلغم باہر پھینکنے کی بجاۓ خود ہی واپس اندر لے جاتا ہے جس سے ہماری آنتوں کی دیواروں کی تہ بہت زیادہ موٹی ہو جاتی ہے اور ان میں ٹوبرکل بن جاتے ہیں جن کی وجہ سے آنتوں میں زخم بن جاتے ہیں۔

 

علامات

؎

بہت زیادہ پیٹ خراب ہونا، دست لگ جاتے ہیں یا پھر مریض کو قبض کی شکایت رہتی ہے۔

؎

پاخانے سے مسلسل خون آنا شروع ہو جاتا ہے۔

؎

پیٹ میں شدید تکلیف ہوتی ہے جو پیٹ دبانے سے بھی محسوس ہوتی ہے۔

؎

پیٹ خراب ہونے کی وجہ سے مریض حد درجہ کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔

 

.3

گردوں کی ٹی بی

گردے کی ٹی بی زیادہ تر نوجوانوں میں پائی گئ ہے۔ اکثر یہ بیماری پہلے ایک گردے پر حملہ کرتی ہے، جب گردہ بری طرح متاثر ہو جاتا ہے تو یہ دوسرے پر بھی اپنا اثر ڈالنا شروع کر دیتی ہے۔

 

علامات

؎

گردوں کی ٹی بی میں عام طور پر بخار نہیں ہوتا۔

؎

مریض کو پیلا پیشاب آتا ہے۔

؎

بار بار پیشاب کرنے کی وجہ سے مریض کو تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے۔

؎

کمزوری کی وجہ سے مریض کا وزن بہت زیادہ گر جاتا ہے۔

؎

گردوں میں اچانک درد کا نکلنا۔

  

تپ دق کے علاج کیلۓ مختلف طریقے

تپ دق کی بیماری کو ہم پوری طرح ختم کر سکتے ہیں اگر مریض پر کثرت سے توجہ دیں اور وقت پر علاج کروائیں۔ اگر وقت پر اس بیماری کا علاج شروع نہ کیا جاۓ تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ تپ دق کے علاج کے لیے مختلف طریقے عمل میں لاۓ جاتے ہیں جیسے ادویات کا استعمال، اسی طرح علاج میں آپریشن بھی شامل ہے۔

 

اس بیماری سے خود کو بچانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی صحت اورغذا کو بہتر سے بہتر کریں۔ اگر جسم صحت مند، توانا ہو گا تو قدرتی طور پر اس بیماری سے لڑنے کے قابل ہو گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹی بی کا مریض خود اس بیماری کو پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔ اس لاپرواہی کی وجہ سے اس بیماری پر قابو پانا مشکل ہے، اس صورت حال کے برعکس اگر احتیاط کی جاۓ تو اس موذی مرض سے بچا جا سکتا ہے۔

Read in Roman Urdu / Roman Hindi

Tip diq aik aisi bimari ha jo phephron par asar andaz hoti ha aur enhe nakara kar deti ha. Aam lafzon me es bimari ko T.B bhi kaha jata hai. Es ke jaraseem is qadar khatarnaq hote hain ke jism ke kisi bhi hise par hamla kar satke hain aur usay theek tarha kaam karne ke qabil nahi chorte. Yeh bemari aik jarsomay ki wajah se paida hoti ha. Es ke jarasem is qader taiz hote hain ke kisi nah kisi terhan insaan ke jism tak rasai hasil karne ma kamyaab ho jate hain. Aksar oqaat yeh hawa me shamil ho kar hamare gale aur naak ke raste phephron tak pohanch he jate hain. Agr koe shakhs es maraz ka shiqar ho chuka ha to woh aasani se dosro ko bhi is bemari ki lapet ma le sakta ha khaas tor par mareez ke khansne, sans laine, aur cheenk laine ke zariye dosron ko lag sakti ha.

Jab ye jaraseem insan ke jism me dakhil ho jate hai to yeh kae din tak insan k thook me zindah reh satke hain. Yeh jaraseem khushki ma kam jabke sardi me ziyada der tak zindah reh satke hain. Yeh jaraseem taiz dhoop, aur taaza hawa me foran mar jate hain. Agar TB ke mareez ko pani achi tarha ubaal kar istimal karwaya jae to T.B ke jaraseem kamzor hona shuru ho jae ge aur is terha mareez is jaraseem se pak pani estimaal kar saktha ha. Agar aik dafa yeh jaraseem aap ke phephron tak pahanch jae to en se jaan churana boht hi mushkil ho jata ha aur yeh tezi se bharne lagte hain. Janwaron me bhe TB ki aik qisam pae jati ha. Ye jaraseem janwaro se muntaqil ho kar phir insano tak pahanch jate hain jo hadion aur phephron par asar andaz hote hain. Tip-diq ke jaraseem aik insan se dosre insan tak mukhtalif zarai se muntaqil hote hain. Aise log jo TB ke marz ma mubtila hain enhe apni thook zameen par nahi phenkni chahiay kyu ke yeh jaraseem is thook ma mojood hote hain jaha se yeh zameen me jazab ho kar khushk mitti me tabdeel ho jate hain aur phir jab taiz hawa chalti hai to yeh hawa me shamil ho kar insan ke sans lene ke raste phephron me dakhil ho jate hain. Baaz oqat gharo me bhe joton ke zariye ye jaraseem dakhil ho jate hain is tarha ye ghar ke afrad khas tor par kam umar bachon par hamla kar satke hain. Bache chunke na-samaj hote hai aur baar baar muh me hath dalte hain, jis ki wajah se ye jaraseem bacho ke pait me chale jate hain. Bilkul esi terha ye khane peene ki cheezo ko hath lagane se be asani se aik jagah se doosri jagah pahanch jate hain. Tip diq ka mareez agar pani ya doodh ko hath lagata hai to ye jaraseem is me bhi shamil ho satke hain, is liye TB ka doctor mareez ko alehda bartan istemal karne ki tajweez karta ha.

khas tor par TB ki marizah maa agar apne bache ko piyar karti hai, chumti hai to yeh jaraseem bache me ba-asani muntaqil ho satke hain. Agar yeh jaraseem kisi terha phephron tak pohanch gae hain to ho sakta ha ke cheenk ane ya khansne se yeh jism se kharij ho jaye. Agar ye jaraseem khoon ki nalio me chale gae hain to mumkin ha ke mede ka tizab ese khatam karde. Agar yeh jaraseem khoon me shamil ho jaye to jism me mojood safed khuliye esay khatam kar satke hain lekin agar en mudafati marahil se jaraseem bach jaye to phir yeh jaraseem phephron par he hamla karte hain. Hamare jism me phephron ka apna he aik modafati nizam hota ha, jab tb hamare phephron me dakhil hote ha to chand khuliye es ki taraf barh kar aik deewar bana lete hain. Phephron ki deewar ke andar pae jane wale mawaad mil kar tuberculosis banatay hain, is ke andar mojood TB ke jaraseem apas me lar rahe hote hain. Es amal ke doran phephron ka mutasirah hisa kharab ho jata hai aur TB ke jaraseem mar jate hain aur phir yeh jaraseem nuqsaan kar ke ruk jate hain jis se yeh lagta hai ke TB ki bimari ruk gae hai par hamare jism me mojood phephron ke andar bohat ziyada andhera, garmi aur nami ki wajah se yeh jaraseem dobarah zinda ho jate hain aur yeh bemari dobarah se hamla aawar ho jati ha. TB ka marz taize se hamare khoon me mojod safed khulio ko mutasir karta ha. Agar hamare jism ki qowat-e-mudafat kam ho to ye jaraseem apna hamla karne me kamyaab ho jate hain.

TB KA TEST | TB KI SHANAKHT KAISE KARE

Tuberculin aik aisa test hai jise TB ki shanakht ke liye istemal kya jata ha. Tuberculin ki aik haas miqdar ko injection ke zariye jild me lagaya jata ha. Agar kisi shakhs me tuberculosis mojood ho to jis jaga injection lagaya jata ha woh jagah aik do din tak sooj jati ha, es jagah ka rang surkh ho jata ha. En TB ki alamat ki wajah se is test ko musbat (+ve) kaha jata hai. Agar yeh test musbet sabit ho to tip diq ke specialist doctor se rujo kare.
Es ke ilawa marz ki tashkhees ke liye doctors mukhtalif tarike istemal karte hain jaisa ke khoon test karna, TB ki alamat par dheyaan dena waghera.

TB KI ALAMAT - SYMPTOMS OF TUBERCULOSIS IN URDU

TB ki alamat madarja zail btae ja rahe hain.
1. Mareez bohat kamzor dikhae deta ha aur is ka wazan bhi bohat kam reh jata ha.
2. Koi kaam kiye baghair mareez jald hi thakan mehsos karta ha.
3. Mede ma koi cheez hazem nahi hoti aur es shakhs ko bhook bohat kam lagti ha.
4. Mareez ko baar baar khansi aati hai jis ki wajah se is ke phephray mazeed mutasir hote hain.
5. Mareez ke baar baar khansne se balgham ke raste khoon aata ha. Pehle khoon ane ki miqdar bohat ziyada hoti ha lekin phir aahista aahista kam hona shuru ho jati ha.
6. Seenay me bohat ziyada dard ka hona.

TB KE MAREEZ KI CARE - BEHTAR DEKH BHAL KESE KREN

Mareez ki ghar me behtar tarike se dekh bhaal mumkin ha jis se mareez behtar tarike se sehat yabi ki taraf wapas ata ha aur kuch hi roz me es ki sehat pehle ki nisbat behtar hona shuru ho jati ha. Mareez ko khansi aana bohat hi kam ho jati ha aur ese bhook lagna shuru ho jati ha. Es ke sath sath adwiyat ka estimal bhe jari rakhna mareez ko behtar se behtar kar deta ha. Baaz oqat mareez apni behtar hoti hui haalat ko dekh kar ye samajh laita ha ke woh mukamal tor par sehat yab ho gaya ha aur phir apne ilaj par dheyan nahi deta jis ki wajah se jism me mojood tip diq bemari ke jarasem pehle ki nisbat ziyada taqat-war ban satke hain. TB ke patient ko chaheay ke apni adwiyat bar-waqat le aur naagha na kere. Jab tak doctor en adwiyaat ko laine se nah roke tab tak en ka istemal jari rakhe. Mareez ko khula, hawadar kamra dena chaheay ta ke taza hawa aur roshni ka cross mumkin ho sake.

TB KE PATIENT KI DIET CHART - MAREEZ KI KHORAK KE LEHAZ SE CHAND ZAROORI HADAYAT

Mareez ko aise ghiza di jae jo es ki jismani zaroriat ko achi tarha pora kar sake aur is ko kamzore na hone de jo ke mandarja zail batayi ja rahi hain.
1. Rozana ki bunyaad par mareez ko kam az kam aadha kilo doodh pilae.
2. Mareez ko ziyada se ziyada taza sabzia khelae.
3. TB ke patient ki diet ma rozana aik adad anda shamil kar dena bohat mufeed ha.
4. Machli, bhuna hua gosht ke sath sath naram ghezae maslan uble hue chawal, daliya, aur sabzio ka soup nihayat faida mand ha.

TIP DIQ KE MAREEZ KE LIYE EHTYATI TADABER

Mareez ko chaheay ke apni thook ko kisi romal ya tissue paper ke zariye saaf kare aur baad me esay jala kar talaf kr de. Tip diq ka mareez apne ird gird afrad se mil milaap barha sakta ha lekin ziyada taweel mulaqat na kare. Mareez ke ghar wale afrad ko bhe chaheay ke apna TB ka test lazmi karwa len ta ke agar ghar me kisi aur fard ko bhe yeh bemari ho to es ka bar-waqat ilaj shuru kya ja sake. Ilaj ke doran baaz oqat aisa bhe hota ha ke mareez jismani tor par bilkul sehat mand dikhae deta ha lekin khatarnak jaraseem abhi tak es me mojod hote hain. Mareez ko chaheay ke woh apne aap par poori tarha tawaja de. Agar thook ke sath khoon ae, thakan mehsoos ho ya adwiyat se koi faida na mile to foran apne doctor se rujo kare.

TB ME MUBTILA SHAKHS KO KYA KARNA CHAHEAY?

1. Tuberculosis patient ko chaheay ke woh apni horak ka khas hial rakhe aur apne aram ko ziada ehmiat de.
2. Baar baar apne doctor tabdel na kere aur aik ache TB specialist doctor se rujo kare.
3. Khud ko sehat afza muqam par le jane ki zarorat nahi, balke apne TB ke ilaj par poori terha dheyan de.
4. Tip diq bimari ki adwiyat chunke miqdar me ziada hoti hain aur mareez ka dil ukta jata he, baaz oqat 2 saal tak bhe en ka istemal karwaya jata ha es liye mareez ko chaheay ke woh hosle ke sath en adwiyat ka dorania poora kare.

TB KI IQSAM (TYPES OF TUBERCULOSIS)

TB phephron ke ilawa jism ke dosre hiso ko bhe mutasir karti ha. Aam tor par pae jane wali T.B ki mukhtalif iqsam mandarja zail bayan ki ja rahi hain.

1.

JORON AUR HADION KI TB

Hadion ki TB insano me ziada tar janwaro ke zariye phelti ha. Amooman jawani me hi is bemari ke lahaq hone ka hadsha hota ha. TB ke jaraseem hadion ki opar wali satah par mojod hote hain jahan se yeh joron ko bhe apni lapait me le late ha. Aksar oqat joron aur hadion ki Tip diq khoon me shamil ho jati ha, natejatan mareez ki moot waqea ho jati ha. Es liye es bimari ka ilaj waqt par karwana bohat zarori ha.
Note: Joron aur hadion ki TB ke jarasem agar khoon me shamil ho jae to yeh bemari pore jism me phail jate ha jis se jism mein es ke jaraseem kafi had tak ban jate hain aur jan lewa sabit hote hain.

HADION AUR JORON KI TB KE ALAMAT

1. Sar me shadeed dard hota hai, Mareez ka halaq bohat jaldi hushk hona shuru ho jata ha aur bohat ziada sar dard hone ki wajah se es ka sar chakrane lagta ha.
2. Nabz ki raftar bohat taiz ho jati ha.
3. Shadeed bukhar ka hona.
4. Jismani wazan intehai kam reh jata ha.
5. Es bimari me mareez ka pait pholne lagta ha.
6. Mareez me khoon ki kami waqea ho jati ha.

2.

ANTON KI TB

Insani anton me TB ke jaraseem khoraak ki nalio ya khoon ke raste pohnchte hain. Anton ki tb hone ki wajah yeh hai ke mareez mu se niklne wali balgham bahar phenkne ki bjae khud hi wapas andar le jata ha jis se anton ki dewaro ki teh bohat ziada moti ho jati ha aur en me hatarnak jaraseem ban jate hain jen ki wajah se anton me zakham be ban jate hain.

ANTON KI TB KE ALAMAT

1. Bohat ziada pait kharab hona, dast lag jate hain ya phir mareez ko qabaz ki shikaet rehti ha.
2. Pahane se musalsal khoon ana shuru ho jata ha.
3. Pait me shadeed takleef hoti hai jo pait dabane se bhe mehsoos hoti ha.
4. Pait harab hone ki wajah se mareez had darja kamzor hota chala jata ha.

3.

GURDON KI TB

Gurde ki TB ziyada tar nojawano me pae gai ha. Aksar yeh bemari pehle aik gurde par hamla karti hai, jab gurda buri tarha mutasir ho jata ha to yeh dosre gurde par bhi apna asar dalna shuru kar deti ha.

GURDE KI TB KE ALAMAT

1. Gurdon ki TB me aam tor par buhar nahi hota.
2. Mareez ko peela pishab ata ha.
3. Pishab karne ki wajah se mareez ko takleef bardasht karna parhte ha.
4. Kamzori ki wajah se mareez ka wazan bohat ziada kam ho jata ha.
5. Gurdon me achanak dard ka nikalna.

TB KE ILAJ KE LIYE MUHTALIF TARIKE

Tip diq ki bimari ko hum pori terha khatam kar satke hain agar mareez par kasrat se tawajah den aur waqt par ilaj karwae. Agar waqt par TB ke ilaj shuru na kia jae tou moot bhe waqia ho sakti ha. Tuberculosis ke ilaj ke liye muhtalif tarike amal me lae jate hain jaisa ke adwiyat ka istemal, Esi terha ilaj me operation bhi shamil ha.

Tuberculosis se khud ko bachane ka asan tarika ye ha ke hum apni sehat aur ghiza ko behtar se behtar kare. Agar jism sehat mand, tawana ho ga to qudarti tor par es mozi marz se larne ke qabil ho ga. Sab se eham baat ye ha ke T.B ka marez khud es bImari ko phelane ka sabab banta ha. Es laparwahi ki wajah se es bimari par qaboo pana mushkil ha, Es soorat-e-haal ke bar-aks agar ehtiat ki jae to es mozi marz se bacha ja sakta ha.