Sugar Ka Ilaj - Alamat, Iqsam, Insulin Ka Istemal

ذیابیطس - Sugar ka ilaj or alamat - sugar ke iqsam type 1 aur type 2 - diabetes control karne ka tarika - mareez Ke Liye parhez

Sugar Ka Ilaj - Alamat, Iqsam, Insulin Ka Istemal

ذیابیطس یعنی شوگر ایک ایسی دائمی بیماری ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب لبلبہ انسولین نہیں بنا پاتا یا جسم بننے والی انسولین کو اچھے طریقے سے استعمال نہیں کر سکتا۔ دراصل انسولین ایک ایسا ہارمون ہے جو جسم کوتوانائی فراہم کرنے کے لئے ہماری کھائی گئ خوراک میں سے گلوکوز کو خون کی نالیوں سے لے کر جسم کے خلیات تک پہنچاتا ہے۔ ہماری خوراک میں موجود کاربوہائیڈریٹس خون میں گلوکوز کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور انسولین گلوکوز کو خلیوں میں داخل ہونے میں مدد دیتی ہے۔

 

تحقیق کے مطابق پانچ میں سے ہر چوتھا انسان ایسا ہے جسے ذیابیطس کی بیماری یا تو ہو چکی ہوتی ہے یا ہونے والی ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے کہ اگر اس کی شناخت ہو جائے تو اس کے ساتھ رہا توجا سکتا ہے مگر کبھی بھی اس سے مکمل طور پر چھٹکارا نہیں پایا جاسکتا۔ یاد رہے کہ ذیابیطس ایک جان لیوا بیماری نہیں ہے، مگر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اگر آپ اس بیماری سے احتیاط نہیں کریں گے تو اس سے ایسی پیچیدگیاں ضرور سامنے آئینگی جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔

 

ذیابیطس کی اقسام

sugar-ke-iqsam_types-of-diabetes

بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں اس بیماری کی اقسام کا علم نہیں ہوتا اور معلومات نہ ہونے کے باعث وہ اس کا علاج غلط ادویات سے شروع کر دیتے ہیں  جس سے مرض کنٹرول ہونے کے بجائے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ لہذا بیماری کی قسم کا جاننا بہت ضروری ہے۔ ذیابیطس یعنی شوگر کی دو اقسام ہیں جسے ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو کہا جاتا ہے۔

 

ٹائپ ون ذیابیطس

دنیا میں دس فیصد لوگ ٹائپ ون ذیابیطس کا شکار ہیں۔ ٹائپ ون ذیابیطس میں جسم کا دفاعی نظام ان خلیوں پر حملہ کرتا ہے جو انسولین تیار کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم انسولین پیدا نہیں کر پاتا اور اگر جسم انسولین پیدا کرتا بھی ہے تو بہت کم مقدار میں۔ ٹائپ ون کی اصل وجوھات نامعلوم ہیں۔

ٹائپ ون ذیابیطس کسی بھی عمر کے لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے لیکن یہ عام طور پر بچوں یا نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ ٹائپ ون ذیابیطس والے افراد کو اپنے خون میں گلوکوز کی سطح کو کنٹرول کرنے کے لئے روزانہ انسولین کے انجکشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر انہیں انسولین نہ دی جائے تو وہ مر سکتے ہیں۔ خاندان میں کسی بھی فرد کو ٹائپ ون ذیابیطس ہونے کی وجہ سے باقی افراد کو بھی یہ بیماری ہونے کا خد شہ بڑھ جاتا ہے۔ ماحولیاتی عوامل اور کچھ انفیکشنز بھی ٹائپ ون ذیابیطس کے خطرے سے منسلک ہیں۔

 

ٹائپ ٹو ذیابیطس

یہ ذیابیطس کی بہت عام قسم ہے۔ دنیا کے 90 فیصد لوگ ٹائپ ٹو ذیابیطس کا شکار ہیں۔ یہ بیماری جسم میں تب بنتی ہے جب  جسم میں موجود انسولین صحیح طریقے سے کام نہیں کر سکتا اور خون میں گلوکوز کی سطح بڑھتی رہتی ہے، جس کے نتیجے میں لبلبہ ختم ہوتا جاتا ہے۔ یہ بیماری عام طور پر بوڑھے لوگوں میں پائی جاتی ہے مگر آج کل موٹاپے، ناقص خوراک اور جسمانی غیرفعالیت کے سبب یہ بچوں اور نوجوانوں میں بھی سرایت کر جاتی ہے۔

 

ذیابیطس کی علامات

ذیابیطس-کی-علامات_sugar-ke-alamaat

جن لوگوں کو ٹائپ ٹو ذیابیطس ہوتی ہے ان کو اس بیماری کا کچھ سالوں میں بھی پتہ نہیں چلتا۔ ایسے لوگ جب کبھی کسی وجہ سے اچانک لیبارٹری ‏ٹیسٹ کروانے چلے جائیں تو اس صورت میں انہیں ذیابیطس کی شناخت ہوتی ہے۔ اس بیماری کی کوئی خاص علامات نہیں ہوتیں البتہ یہ دیکھا گیا ہے کہ وہ لوگ جن کا منہ خشک ہونا، پیاس بہت زیادہ لگنا، پیشاب کا بہت زیادہ آنا، اور پاؤں جلنے کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں ان کے چار یا پانچ سال اس بیماری میں گزر چکے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ تکالیف شروع ہو جاتی ہیں۔ لہذا اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ اگر ایسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر گھریلو علاج کریں۔ اگر پھر بھی حالت بہتر نہ ہو تو ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں تاکہ وہ آپ کو مکمل رہنمائی فراہم کر سکے۔

دل کا گھبرانا، پسینہ آنا، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، اور اچانک کمزوری محسوس ہونا شوگر لیول کے کم ہونے کی علامات ہیں۔ جبکہ شوگر لیول کے زیادہ ہونے کی علامات میں پاؤں کا جلنا، پیاس لگنا، پیٹ کا دردھونا شامل ہیں۔

 

ذیابیطس کی وجوہات

.1

ذیابیطس کا جنیاتی طور پر منتقل ہونا۔

.2

جسم میں انسولین کا نہ بننا۔

.3

غذا میں کاربوہائیڈریٹ کا ضرورت سے زیادہ استعمال۔

.4

انسولین کے جسم میں بڑھنے سے چربی کا جمع ہونا۔

.5

ذہنی دباؤ۔

 

ذیابیطس کے مریضوں میں خطرے کے عوامل

sugar-ka-khatra

بہت سے ایسے مریض ہیں جن کو ذیابیطس کی وجہ سے ہارٹ اٹیک کا مسئلہ ہو چکا ہوتا ہے اورا نہیں اسکا اندازہ تک نہیں ہوتا۔ ایک اورپیچیدگی جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب مریض غلط طریقے سے اپنے شوگر لیول کو کنٹرول کرتا ہے توخون کی نالیاں بند ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے کولیسٹرول بڑھنے لگتا ہے۔ دل کی بیماریاں پیدا ہونے لگتی ہیں اور ذہنی دباؤ سے انسان متاثر ہوتا ہے۔ ان سب بیماریوں کے باعث اگر ذیابیطس کو وقت پر کنٹرول نہ کیا جائے تو دماغ میں خون کی نالیاں بند ہونے کی وجہ سے مریض فالج کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔

 

ذیابیطس کا غذا سے علاج

.1

انگور، کیلا، اور آم کے علاوہ پھلوں کو چھلکے سمیت استعمال کریں۔

.2

میتھی دانہ شوگر لیول کو کنٹرول کرتا ہے۔

.3

ناشتے میں بران بریڈ کا استعمال بھی مفید ہے۔

.4

روزانہ دن کو سلاد کا استعمال ضرور کریں۔

.5

بادام، اخروٹ، پستہ، اور کاجو کا استعمال شوگر میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

.6

پانی کا زیادہ استعمال کرنا جسم سے فاضل مادے نکالنے میں مدد دیتا ہے جس سے شوگر لیول نارمل رہتا ہے۔

.7

گندم کا چکی میں پیسا ہوا خالص آ ٹا فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو شوگر کے لیول کو نارمل رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

 

ذیابیطس کی روک تھام

sugar-ko-kese-control-krain

یہ ایک ایسا مرض ہے جسے مریض خود ڈاکٹر سے زیادہ اچھا اور بہتر طور پر کنٹرول کرسکتا ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ تمام میٹھی چیزوں، بیکری کے لوازمات، اور کولڈ ڈرنکس سے پرہیز کیا جائے۔ اگر آپ کا شوگر لیول مناسب ہے تو پھلوں اور گندم کے بسکٹ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آپ کو صبح کا ناشتہ، دن اور رات کا کھانا، روزانہ ایک ہی وقت پر کھانا ہوگا(اگر آپ اس میں بے احتیاطی کریں گے تو شوگر لیول کو کنٹرول کرنا مشکل ہوگا)۔ اپنا طرز زندگی بہتر بنائیں، ہمیشہ اچھی اور متوازن غذا کا استعمال کریں۔ روزانہ ورزش کرنا بھی اس سلسلے میں کارآمد ثابت ہوتا ہے۔

 

حاملہ خواتین میں ذیابیطس کی پیچیدہ صورتِ حال

pregnancy-me-sugar

حاملہ خواتین کو ڈیلیوری کے تین سے چھ سال بعد ٹائپ ٹو ذیابیطس کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ حمل کے دوران میں ذیابیطس کا ہونا ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے بہت منفی اثرات رکھتا ہے۔ رحم میں ہائپرگلیسیمیا کی موجودگی بچوں کے زیادہ موٹے ہونے کا خطرہ بناتی ہے۔ اس قسم کی ذیابیطس کو جیسٹیشنل ذیابیطس کہا جاتا ہے۔ اس سے متاثرہ خواتین کوحمل سے متعلقہ پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں ہائی بلڈ پریشر، بڑے پیدائشی وزن والے بچے کا ہونا شامل ہیں۔

 

ذیابیطس کیلیے انسولین کا استعمال

sugar-ma-insulin-ke-faiday

اگر آپ کو ٹائپ ون ذیابیطس ہے جس کیوجہ سے آپ کا جسم انسولین پیدا نہیں کر پاتا، اس کو بنانے کے لیے انسولین تھراپی بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ٹائپ ٹو اور جیسٹیشنل ذیابیطس کے مریضوں کو بھی انسولین لینے کی اس وقت ضرورت پڑ جاتی ہے جب بنیادی علاج بھی اثر نہ کر رہا ہو۔ انسولین تھراپی ذیابیطس کی پیچیدگیوں کو روکنے میں آپ کے بلڈ شوگر کو اپنے ہدف کی حد میں رکھ کر مدد کرتی ہے۔

 

انسولین کے مضر اثرات/ نقصانات

انسولین کا استعمال فائدہ مند ہونے کے ساتھ ساتھ نقصان دہ بھی ہے۔ عام طور پر جو مضر اثرات دیکھے گئے ہیں ان میں زیادہ پسینہ آنا، نظر کمزور ہونا، بےچینی، خارش، جسم کا سوجنا، تھکاوٹ ہونا، بھوک کا زیادہ لگنا، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کچھ بڑی بیماریاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں جیسا کہ لو بلڈ پریشر، غنودگی، سر درد، بے ہوشی، پٹھوں کی کمزوری، اور سانس کی بیماریاں وغیرہ۔

Read in roman Urdu / roman Hindi

Sugar (Diabetes) aik aise daime bemari ha jo es waqat paida hote ha jab lablaba (pancreas) insulin nahi bana pata ya jism ban,ne wale insulin ko ache tarike se istemal nahi kar sakta. Dar-asal insulin aik aisa Harmon ha jo jism ko tawanai fraham karne ke liay hamari khai gae khorak (food) mai se glucose ko khoon ke nalio se lay kar jism ke hoolyat tak pohnchata ha. Hamari khorak ma moojod carbohydrates khoon ma glucose ke shakal ehtiyar kar letay hain aur insulin glucose ko hoolyon ma dahil hone mai madad daite ha.

Tehqeeq (research) ke mutabiq panch mai se har chotha insan aisa ha jisay sugar ke bemari ya to ho chuki hote ha ya hone wale hote ha. Yeh aik aise bemari ha ke agar ess ki shanakht ho jae to es ke sath raha to ja sakta ha magr kbhi b es se mukamil tor par chutkara nahi paya ja sakta. Yaad rahe ke sugar aik jaan lewa bemari nahi ha, magr yeh yaad rakhna zaroori ha ke agr app es bemari se ehtiat nahi krain gay or barwaqt sugar ka ilaj nahi krain gay to es se aise pechidgia zaroor samne ain ge jo jaan lewa sabit ho sakti hain.

SUGAR KE IQSAM

Boht se aise log b hain jinhay es bemari ki iqsaam ka ilm nahi hota aur maloomat na hone ke baes wo es ka ilaaj ghalat adwiyat se shuru kar daite hn jis se marz control hone ke bajae ziada bhadh jata ha. Lehaza bemari ke qism (type) ka jan,na boht zaroori ha. Sugar ke 2 iqsaam haim jisay type-1 or type-2 kaha jata ha.

TYPE-1 SUGAR

Dunya ma 10 fesad (percent) log type-1 sugar ka shikar hain. Type-1 diabetes ma jism ka defai nizam un khoolio par khmla (attack) karta ha jo insulin tyar karte hain, jis ke nitejay mai jism insulin paida nahi kar pata aur agar jism insulin paida karta b ha to boht kam miqdar ma. Type-1 sugar hone ke asal wajoohat na-mallom hain.
Type-1 diabetes kisi b umar ke logon ko mutasir kar sakta ha lekin yeh aam tor par bachon (childern) ya noojwano ko apni lapait ma leta ha. Type-1 sugar wale afrad ko apne khoon ma golucose ki satah (level) ko control karne ke liay rozana insulin ke injection ki zaroorat hoti ha. Agar enhay insulin na de jae to wo mar sakte hain. Handan (family) ma kisi be fard ko type-1 sugar hone ki wajah se baki afraad ko b yeh bemari hone ka hadsha badh jata ha. Mahoolyati awamil aur kuch infections b type-1 sugar ke hatray se munsalik hain.

TYPE-2 SUGAR

Yeh sugar ki bohat aam kism ha. Dunya ke 90 fesad log type-2 diabetes ka shikar hain. Yeh bemari jism ma tab banti ha jab jism ma moojod insulin sahi tarike se kaam nahi kar sakta aur khoon ma golucose ke satah badhte rehte ha, jis ke natijay (result) ma lablaba hatam ho jata ha. Yeh bemari aam tor par bodhay logon (aged persons) ma pae jati ha magr aj kal motapy, aur naqis khoorak ke sabab yeh bachon or noojwano ma b dahil ho jate ha.

SUGAR KI ALAMAT

Jin logon ko type-2 sugar hoti ha en ko es bemari ka kuch saon mai b pata nahi chalta. Aise log jab kbhi kisi wajah se achanak labortary test karwane chale jain to es surat ma unhe sugar (diabetes) ki shanakht hoti ha. Ess bemari ki koi haas alamaat nahi hote albata yeh dekha gia ha ke wo log jin ka muu khushk hona, piyas boht ziada lagna, peshab ka boht ziada ana, aur pao jalne ki alamaat zahir hona shuru ho jate hain en ke char ya panch saal es bemari ma guzar chukay hote hn jis ki wajah se yeh takaleef shuru ho jate hain. Lihaza es baat ka khas hial rkhain ke agr aise alamaat zahir hon tou fori toor par sugar ka gharelu ilaj krain. Agr phir b halat behtar na ho tou doctor se zaroor rajuu (meeting) krain ta ke wo aap ko mukamil rehnomai fraham kar skay.
Dill ka ghabrana, pasina ana, dill ke dharkan ka tez hona, aur achanak kamzori mehsoos hona sugar level ke kam hone ki alamaat hain. Jab ke sugar level ke ziada hone ke alamaat mai pao ka jalna, piyaas lagna, pait ka dard hona shamil hain.

SUGAR HONE KI WAJAH

1. Sugar ka genetic ke wajah se muntakil hona.
2. Jism mai insulin ka na ban,na.
3. Ghiza ma carbohydrates ka zaroorat se ziada istemal.
4. Insulin ke jism mai bharne se charbi (fat) ka jama hona.
5. Zehni dabao.

DIABETES KE MAREEZON MA KHATRE K AWAMIL

Boht se aise mareez hain jin ko sugar ki wajah se heart attack ka masla ho chuka hota ha aur unhe ess ka andaza tak nahi hota. Aik aur paichedgi jo samne ate ha wo yeh ke jab mareez ghalat tarike se apne sugar level ko control karta ha to khoon ke nalia band hona shuru ho jate hain jis ke wajah se cholestrol badhne lagta ha. Dill ke bemaria paida hone lagti hain aur zehni dabao se insan mutasir hota ha. En sab bemarion ke baees agar diabetes ko waqt par control na kia jae to dimagh mai khoon ki nalia band hone ki wajah se mareez falij ka shikar b ho sakta ha.

GHIZA KE SATH SUGAR KA ILAJ

1. Angoor, kela, aur aam ke ilawa phalon ko chilke samet istemal krain.
2. Methi dana sugar level ko control karta ha or sugar ka desi ilaj mana jata ha.
3. Nashte mai brown bread ka istimal b mufeed ha.
4. Rozana din ko salad ka istimal zaroor krain.
5. Badam, ahrot, pista aur kaju ka istimal sugar (diabetes) ma acha sabit hota ha.
6. Pani ka ziada istimal karna jism se fazil maday (material) nikalne mai madad deta ha jis se sugar level normal rehta ha.
7. Gandum (wheat) ka chaki ma peesa hua halis aata fiber se bharpor hota ha jo sugar ke level ko normal rakhne ma madad deta ha.

SUGAR CONTROL KARNE KA TARIKA - SUGAR KI ROK THAM 

Yeh aik aisa marz ha jisay mareez hud doctor se ziada acha aur behtar tor par control kar sakta ha. Sugar control karne ka tarika yeh ha ke tamam methi chezon , bekari ke lawazmaat, aur cold drinks se parhaiz kia jae. Agar app ka sugar level munasib ha tou phalon aur gandum ke biscut ka istimal kia ja sakta ha. Aap ko subah ka nashta, din aur raat ka khana, rozana aik e waqt par khana ho ga (Agr aap es mai be-ehtiati (careless) krain gay tou sugar level ko control karna mushkil ho ga). Apna tarz-e-zindagi behat banae, hamesha achi aur mutawazn ghiza ka istimal krain. Rozana warzish karna b es silsale mai kar-amad hota ha.

HAAMLA (PREGNANT) KHAWATEEN MAI DIABETES KI PAICHEDA SURAT E HAAL

Haamla khawateen ko delivery ke 3 se 6 saal baad type-2 diabetes ka ziada khatra hota ha. Hamal ke doraan mai sugar ka hona maa (mother) or bachay dono ki sehat k liay boht manfi asraat rakhta ha. Rehm mai hyper-glycemia ki mojodgi bachon ke ziada mootay hone ka khatra banati ha. Es qism ke sugar ko gestational diabetes kha jata ha. Es se mutasira khawateen ko hamal se mutaliqa (related) paichedgio ka samna karna padhta ha jin ma high blood pressure, badhy paidaeshi wazn wale bachy ka hona shamil hain.

SUGAR KE MAREEZ KE LIAY INSULIN KA ISTIMAL

Agr aap ko type-1 sugar ha jis ki wajah se app ka jism insulin paida nahi kar pata tou ess ko bana,ne ke liay insulin therapy boht eham kirdar ada karti ha. Type-2 or gestational diabetes ke mareezon ko b insulin lene ki uss waqt zaroorat parh jati ha jab bunyadi ilaj be asar na kar raha ho. Insulin therapy sugar ke paichedgio ko rokne ma app ke blood sugar ko apne hadaf ki had ma rakh kar madad karti ha.

INSULIN KE NUQSANAT

Sugar ke mareez ke liay insulin ka istimal faida-mand hone k sath sath nuqsan-dah b ha. Aam tor par jo buray asraat daikhy gae hain un ma ziada pasina ana, nazar kamzor hona, be-chyni, harish, jism ka soojna, thakawat hona, bhokh ka ziada lagna, dill ki dharkan ka tyz hona waghyra shamil hain.
Es k ilawah kuch badhe bemarian b paida ho sakti hain jesa ke low blood pressure, ghanodgi ,sar ka dard, be-hoshi, pattho ki kamzori, aur saans ki bemarian waghyra.